Jawab do love poem

کیا دل مرا نہیں تھا تمہارا ، جواب دو
برباد کیوں کیا ہے ؟ خدا را جواب دو

کیا تم نہیں ہمارا سہارا ، جواب دو
آنکھیں مِلاؤ ، ہم کو ہمارا جواب دو

کل سے مراد صبحِ قیامت سہی ، مگر
اب تم کہاں مِلو گے دوبارا ، جواب دو

چہرا اُداس ، اشک رواں ، دل ہے بے سکوں
میرا قصور ہے کہ تمہارا ؟ جواب دو

دیکھا جو شرمسار ، اُلٹ دی بساطِ شوق
یوں تم سے کوئی جیت کے ہارا ؟ جواب دو

میں ہو گیا تباہ تمہارے ہی سامنے
کیوں کر کیا یہ تم نے گوارا ؟ جواب دو

تم ناخدا تھے ، اور تلاطم سے آشنا
کشتی کو کیوں مِلا نہ کنارا ؟ جواب دو

شام آئی ، شب گزر گئ ، آخر سَحر ہوئی
تم نے کہاں یہ وقت گزارا ؟ جواب دو

لو تم کو بھی بلانے لگے ہیں نصیرؔ وہ
بولو ارادا کیا ہے تمہارا ، جواب دوl💕💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: