مقدس ماہ رمضان اور روزوں پر احمقانہ لطائف

خبردار ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !!!

مقدس ماہ رمضان اور روزوں پر احمقانہ لطائف!

سورج ڈوبا یا نہیں ، لگتا ہے آج تو مجھ کو لے کر ہی ڈوبے گا.

سنا ہے رمضان میں شیطان کو قید کر دیا جاتا ہے. پر تم تو آزاد گھوم رہے ہو؟

چڑی روزہ ہے، کھا لو کچھ.

شکل دیکھو کیسی ہو گئی ہے تمہاری؟

ابھی بیٹری کتنی چارج ہے 70%، 50%، 20%.

بھائی اور بہت سارے موضوع ہیں. ان پر لطیفے بناؤ۔
روزہ ہی کیوں؟؟

من استھزأ بشئ من دین الرسول صلی اﷲ علیہ وسلم، أو ثوابہ، أو عقابہ کفر۔

“جس نے رسول اللہ ﷺ پر نازل شدہ دین کی کسی چیز کا یا اس کی جزا و سزا کا مذاق اڑایا، اس نے کفر کا ارتکاب کیا۔”
(اگرچہ اس نے ہنسی مذاق کے طور پر یہ بات کہی ہو۔)

دین اسلام کے کسی امر کا استہزأ کرنا، اس کا مذاق اڑانا، اجماع امت کے مطابق کفر ہے ۔اگرچہ کوئی غیر سنجیدگی سے بھی مذاق اڑائے۔

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ تبوک کے موقع پر ایک محفل میں ایک منافق شخص نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں کہا :
“ان سے زیادہ میں نے باتوں میں تیز، کھانے میں پیٹو، کلام میں جھوٹے اور لڑائی میں بزدل کسی اور کو نہیں دیکھا۔”
محفل میں سے ایک دوسرے شخص نے کہا:
“تم جھوٹ بولتے ہو، بلکہ تم منافق ہو. میں رسول اللہ کو ضرور بتاؤں گا.”

پس رسول اللہ ﷺ تک بات پہنچی تو قرآن حکیم کی آیات نازل ہوئیں.
ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس شخص کو دیکھ رہا تھا. وہ رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کے ساتھ چمٹا ہوا تھا اور پتھر اس کے پاؤں کو زخمی کر رہے تھے اور وہ کہہ رہا تھا:

” یا رسول اللہ ﷺ! ہم تو یونہی آپس میں ہنسی مذاق کر رہے تھے۔”

اور رسول اللہ ﷺ یہ آیات تلاوت کر رہے تھے:

قُلْ اَبِاللہِ وَاٰيٰتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ كُنْتُمْ تَسْتَہْزِءُوْنَ۝۶۵ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ۝۰ۭ
(التوبۃ:۶۵،۶۶)

”کہہ دیجئے. کیا اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ ہی تمہاری ہنسی اور دل لگی ہوتی ہے۔ تم بہانے نہ بناؤ یقینا تم اپنے ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے۔”
(ابن جریر:۱۰/۱۷۲ محدث سلیمان العلوان نے جید سند کہا ہے۔)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ، کتاب الایمان صفحہ ۲۷۳ پر اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

”اس آیت سے خبر ملتی ہے کہ ان لوگوں نے جو اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑایا تھا وہ ان کے خیال میں کفر نہ تھا۔
اس لیے اس آیت کے ذریعے ان کو خبر دی گئی کہ تم نے کفریہ عمل کیا ہے۔ وہ یہ تو جانتے تھے کہ ایسا کرنا حرام ہے لیکن ان کو یہ خبر نہ تھی کہ کفر بھی ہوجائے گا۔”

*پس رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والے دین کی کسی بات کا مذاق اڑانا کفر ہے. چاہے وہ نماز ہو، داڑھی ہو، شلوار کا ٹخنے سے اوپر کرنا ہو، شرعی پردہ ہو، سود کا چھوڑنا ہو یا فرشتے ہوں، یا جنت اور جہنم کی کسی چیز کا ذکر ہو. صحابہ رضی اللہ عنہم کا مذاق اڑانا ہو… جیسا کہ مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ اسے اللہ، آیات اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے مذاق قرار دے رہے ہیں.

یاد رکھیے دین اسلام مذاق نہیں ہے !!!

خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بتائیں.

جزاک اللہ خیر..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: