قرآن کیوں پرھیں رمضان المبارک کے موقعہ پر خاص پیش کش

قرآن کیوں پڑھیں؟
محمد اللہ قیصر
میرے ایک دوست نے اپنا ایک مضمون ارسال کیا ساتھ میں یہ بھی تاکید کی کہ ضرور پڑھنا اور اسے شئیر بھی کردو تو نور علی نور،
میں مکمل مضمون پڑھنے کے بعد مشتملات کو ذہن میں بٹھانے کیلئے اس کا ذہنی اعادہ کر ہی رہا تھا کہ دفعة ایک خیال آیا، خیال کیا ذہن میں ایک سوال ابھرا ، کہ آخر انسان ایسا کیوں چاہتا ہے کہ اس کی ادنی سے ادنی تخلیق سے بھی ہر شخص آشنا ہو اور دوسروں کو بتانے کیلئے وہ ابلاغ و ترسیل کے تمام میسر ذرائع کا استعمال کرتا ہے، ایک شاعر چاہتا ہے کہ اس کے کلام کے ہر شعر پر اسے دعاء کی آمیزش کے ساتھ دادو تحسین ملے، “بہت خوب” اور “مکرر ارشاد” کا شور سنائی دے، مضمون نگار کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ پڑھنے والے اس کے انداز تحریر اور مشمولات کی خوبی کا اعتراف و اظہار کریں،اور جو پیغام ہے اس کو سمجھ کر اپنے ساتھ دوسروں کو عمل کی دعوت دیں،
وجوہات کی تلاش میں ذہن جب سر گرداں ہوا تو کئی وجوہات سامنے آئے ، مثلا انسان میں نام و نمود اور شہرت کی شدید ترین خواہش ہوتی ہے ، شاید اسلئے وہ ایسا کرتا ہے لیکن یہ خیال ہر کاتب سے بد ظنی پر اکسانے والا ہے جو کسی طرح مبنی بر حق نہیں ہو سکتا ،ایک سبب یہ بھی ذہن میں آیا کہ تحریر کنندہ چونکہ اپنے تحریر کے خبایا و زوایا،اس کی خوبی و خامی، تمام نشیب و فراز اور اس کے پیغام کی معنویت سے علی وجہ الکمال واقف ہوتا ہے،کاتب اپنی تحریر کے ذریعہ جو پیغام دینا چاہتا ہے اسے قاری کیلئے مفید بلکہ مفید ترین سمجھتا ہے اسلئے اس کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ اس کا پیغام عام ہو اور ہر کوئی فائدہ اٹھائے،یہ سبب کاتب سے حسن ظن کی بنیاد پر قدرے بہتر لگا،
اسی ادھیڑ بن میں میرا ذہن قرآن کریم کی تلاوت کی کثرت کے متعلق شریعت مطہرہ کےاحکامات اور اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تشجیعی ارشادات،تلا و
ت قرآن کی کثرت کرنے والوں کے لئے بے شمار اجرو ثواب کا اعلان، لا تعداد فضائل کا بیان، معلم،متعلم،مفسر،حافظ غیر حافظ ،دیکھ کر تلاوت کرنے والے ،تجوید کے ساتھ اور بغیر تجوید کے پڑھنے والےسمجھ کر اور بے سمجھے تلاوت کرنے والے، ہر ایک کے الگ الگ فضائل و مناقب کا بیان، بارگاہ ایزدی اور در رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کیلئے دارین میں مختلف اور بڑے بڑے انعامات کی خوشخبری ،پھر ایک حرف کی تلاوت کرنے والے کیلئے ۱۰ نیکی کا نبوی اعلان اس پر اگر رب کریم کے فرمان من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها(نیکی کرنے والوں کیلئے اس کا دس گنا اجر ہے) کی روشنی میں دیکھیں تو قرآن کے ایک حرف کی تلاوت کرنے والے کو ۱۰۰نیکیاں ملینگیں اور اسی پر بس نہیں چونکہ رمضان میں ہر عمل کے اجر میں 70 گنے کا اضافہ ہو جاتا ہے ، اس اعتبار سے رمضان کے اس خصوصی پیکج کی وجہ سے ایک حرف کی تلاوت کرنے والا 7000 سات ہزار تک کے بیش قیمتی اجر کا مستحق ہو جاتا ہے،رب کائنات نے تلاوت قرآن کو ایسی تجارت فرمایا جس کی بربادی کا کوئ امکان نہیں (فاطر 29)، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نے خوشخبری دی کہ قرآن کریم بروز قیامت قاری کا سفارشی بن کر آئے گا،اس کو پڑھنے اور پڑھانے والے کو روئے زمین کا سب سے بہتر فرد قرار دیا، مسجد میں تلاوت کرنے والوں کو یہ مژدہ سنایا کہ فرشتے انہیں ڈھانکنے و لیتے ہیں، اللہ کی رحمت ان پر چھا جاتی ہے اور و مالک کون و مکاں فرشتوں کے درمیان اس کا تذکرہ فرماتے ہیں، اتنے انعامات کے اعلانات کیوں؟ اپنی کتاب پڑھنے کیلئے بندوں کو اتنی ترغیب؟ آخر کس لئے؟ کیا ہمارا رب چاہتا ہے کہ اس کی نازل کردہ اس کتاب کو کسی بھی حال میں ہم ضرور پڑھیں؟ کیا یہاں بھی وہی اسباب ہیں؟ لیکن توبہ توبہ نعوذ باللہ الف مرة ہمارا خالق،مالک،رازق صرف اپنی تعریف کیلئے کیوں ہمیں اپنی کتاب پڑھنے کی ترغیب دیگا؟ تعریف اور واہ واہی کی خواہش اور توقع تو عموما مقابل، ہم جنس اور خود سے بڑے سے ہوتی ہے جبکہ یہاں معاملہ بالکل بر عکس ہے کیوں کہ ہمارا رب یکتا ہے، اس کا ہمسر کوئی نہیں، اس کے جیسا کوئی ہے نہ ہوگا،اس پر کسی کی بر تری کا سوال ہی نہیں،، وہ ارض و سماوات کا مالک ہے، آسمان کی فضاؤں سے لے کر سمندر کی تہ میں سانس لینے والے جاندار کا رازق ہے ، آفتاب و ماہتاب سمیت کائنات کے ہر ذرہ کا خالق ہے وہ غنی ہے بے نیاز ہے، اور در حقیت یہ سونچ بھی ہماری حرماں نصیبی کا پیش خیمہ ہوگی کیونکہ وہ معبود ہم عابد ،وہ خالق ہم مخلوق،وہ مالک ہم مملوک،وہ رازق ہم مرزوق،وہ قوی ہم ضعیف ،اس کی حمد و ثناء میں اشجار و احجار، درخت کے پتے، کھیتوں میں لہلہاتی بالیاں،باغوں میں اپنی خوشبو بکھیرتے پھول،مناجات ایزدی میں مصروف گنگناتے آبشار، حمدو ثنا کے نغمے گاتے پرندے،ملائکہ،جن و انس اور اس کے علاوہ کائنات کی ہر ہر مخلوق اپنے خالق و رازق کے حمد میں رطب اللسان ہوتے ہیں اس کے باجود اس علی العظیم کی شان میں سمندر میں ایک قطرے کے برابر بھی اضافہ کا امکان نہیں، اور اگر یہ سب کے سب حمد باری سے انکار کردیں تو بھی اس کی ارفع و اعلی شان میں رتی برابر کمی نہیں ہو سکتی،اور اگر وہ چاہتا بھی ہے کہ ہم اس کی تعریف کریں تو وہ اس کا عین حق ہے، چھوٹے سے چھوٹے احسان کرنے والے کے پیچھے ہم آپ کس طرح دیوانوں کی طرح پھرتے ہیں، اس کے اخلاق کریمانہ کے تذکرہ سے ہماری صبح کا آغاز اور شام کی ابتداء ہوتی ہے، تو پھر وہ پالنہار جس کے احسانات بے نظیر بے مثل، جس کی عطا کردہ نعمتیں لاتعداد بے شمار، جس کا کرم لامتناہی جس کی رحمت کے احاطہ سے کائنات کی وسعت بھی لاچار، اس کے کرم کا حال یہ ہے کہ ہماری ہزار نافرمانیوں کے باوجود بھی ہمیں اپنی نعمتوں سے محروم نہیں کرتا ،عین اس وقت جب ہم گناہ کے دلدل میں دھنسے ہوتے ہیں تب بھی اس کی رحمت و شفقت اس کے غضب کو روک دیتی ہے ، اس جواد کریم ملک بر رؤف الرحیم کی نعمتیں اتنی ہیں کہ دنیا کے بڑے سے بڑے زبان کے دھنی ان نعمتوں کو شمار کرنے عاجز رہ گئے، اور حقیقت یہی ہے کہ آج کے اس سائنسی دور میں انسان اس کی عطا کردہ کسی بھی ایک نعمت پر غور کرنا شروع کرتا ہے تو اس کی اہمیت اور خصوصیت بیان کرتے کرتے اس کی زندگی گذر جاتی ہے پھر بھی وہ مکمل نہیں کرپاتا پھر بڑی بڑی ٹیمیں حتی کہ مستقل یونیورسٹیاں ان تحقیقات کو آگے بڑھانے کیلئے قائم کی جاتی ہیں، ہمارے اور آپ کے ارد گرد اس کی مثالیں بے شمار ہیں، تو ایسا داتا ہماری حمد و ثناء کا مستحق کیوں نہیں ہوگا حق تو یہ ہے کہ انسان اگر اپنی زنگی کا ہر لمحہ اس کی ثناء خوانی میں گزاردے تو بھی حق ادا نہیں ہو سکتا، نیز حمد باری ایک عبادت ہے اور حدیث پاک کے مطابق عبادت بندوں پر اللہ کا حق ہے، اس کے باوجود وہ کیوں صرف اپنی بڑائی کے مقصد سے اپنی کتاب کی تلاوت کا حکم دے گا؟ لازماً دوسری وجہ اقرب الی القیاس لگتی ہے یعنی ہم سب کا پالنہار، اس کتاب عظیم کو اپنے سب سے پیارے نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم پر نازل کر نے والا علام الغیوب جانتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی دنیوی و اخروی ہر کامیابی کی کنجی کا پتہ اس کتاب مقدس میں لکھ دیا ہے ، جسے قرآن کو پڑھے اور اس میں تدبرکئے بغیر انسان نہیں جان سکتا،لہذا جو اس کی تلاوت کرے گا وہ خزانے کی کنجی سے سرفراز ہوگا، دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ہر راز اس کے ہاتھ لگے گا، جو منہ موڑے گا محرومی اس کا نصیبہ بنے گی،اور خالق ہر حال میں اپنے مخلوق کو بہتر سے بہتر حالت میں دیکھنا چاہتا ہے، کیا آپ کبھی بھی اپنے ہاتھوں سے بنائ چیز کو بگڑی ہوئ حالت میں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں؟ آپ کچھ تحریر کرتے ہیں یا کیناس پر کوئی منظر کشید کرتے ہیں تو کاغذ کو پانی سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ کہیں پانی کا ایک قطرہ آپ کی تحریر کے نقشے نہ بگاڑ دے. اور اگر خدا نخواستہ اس پر اگر کوئی خراش آجائے تو آپ پر ایسی افسر دگی چھاتی ہے جیسے خراب ہونے والے شیئ پر ہی آپ کی زندگی کا دارو مدار ہو، اس سے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارا خالق اپنی انمول مخلوق جس کی کاپی ممکن نہیں اس کی بہتری اس کے نزدیک کتنی محبوب ہو گی، اسی لئے تو وہ چاہتا ہے کہ ہم ہر حال میں قرآن کریم کو پڑھیں اور اس میں تدبر کریں، تاکہ اس کے دائمی پیغامات سے ہم رو شناس ہوکر اپنی دنیوی و اخروی زندگی کے نوک پلک سنوار سکیں، دارین کی کامیابی کے لئے تیاری کر سکیں، موجودہ زندگی جینے کے ضروری طریقے ہمیں معلوم ہو جائیں، مستقبل (آخرت )کی زندگی میں کامیابی کے راستوں کا پتہ مل جائے، کون راستہ پرخار ہے اور کون آرام دہ ہمیں اس کا مکمل اندازہ ہو جائے، کس راستے پر چل کر ہم اپنی منزل مقصود (رضائے الہی)تک پہونچ سکتے ہیں اور کون سا راستہ اختیار کرنے کی صورت میں منزل سے بھٹک کر ایک بھیانک وادی میں پہونچ جانے کا خطرہ ہے، خلاصہ یہ کہ دنیوی اور اخروی دونوں زندگی کے ایک ایک نشیب و فراز اور تمام خطرات سے آگاہ کرنےکے ساتھ بے خطر اور پر سکون راستوں کا مکمل پتہ اس کتاب مقدس میں ہمارے خالق ارحم الراحمین نے بیان کر دیا ہے اور اسی لئے وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی تلاوت کو حرز جاں بنالیں تاکہ اس ذات کریم کی یہ انمول مخلوق،جسے اس نے اشرف المخلوقات ہونے کا شرف بھی بخشا ہے صراط مستقیم سے بھٹک کر اپنے پروردگار کے دشمن شیطان کے ہتھے نہ چڑھ جائیں، جو انہیں بھٹکا کر منزل سے دور بہت دور نا فرمانوں اور گمراہوں کیلئے تیار کی گئی عذاب گاہ تک پہونچانے کے ہر حربہ سے خوب واقف ہے، تمام آسمانی کتابوں کے متعلق فرمان الہی یہی ہے “جو شخص میری ہدایت کا اتباع کرے گا وہ نہ تو دنیا میں گمراہ ہو گا نہ آخرت میں شقی ہوگا اور جو میری اس نصیحت سے منہ موڑے گا اس کو بڑی تنگ زندگی ملے گی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کر کے اٹھائینگے” (طہ 123) یہاں بالکل واضح پیغام ہے کہ تمام آسمانی کتب بشمول قرآن کریم دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کےلئے نقشہ راہ ہے جس کی پیروی سے بندہ منزل مقصود تک پہونچ سکتا ہے اور اعراض و رو گردانی کا نتیجہ ضلالت و گمراہی اور شقاوت و بد بختی کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا، اسی کتاب میں دل و دماغ کو سکون فراہم کرنے والے عبادات کے مرغ زاروں کا پتہ ملے گا،یہیں بے چین انسانی روحوں کو قرار بخشنے والے اعتقادات کی تفصیلات ملیں گی جس کا تقاضا خود انسانی فطرت کرتی ہے نہ کہ وہ خود ساختہ باطل عقائد جسے انسانوں نے محض اپنے مفاد کی خاطر بنایا اور پھیلا یا ہے، اسی کتاب عظیم میں معاملات و معاشرت کی پر پیچ گھاٹیوں کا مکمل اور مفصل نقشہ ملے گا جس کے سہارے کسی بھی انسان کیلئے معاملات و معاشرت کی بلند ترین چوٹیوں تک رسائ آسان تر ہو جاتی ہے، جن اخلاق کی بکھری ہوئی خوشبوؤں کو یکجا کرنے میں افلاطون سے سے لیکر دور حاضر کے فلاسفہ اور علماء اخلاق حیران پریشان رہے اور تاحال ہیں ان کے مختلف النوع عطر بیز کلیوں سے تیار شدہ مرکب عطر یہاں موجود ہے، اور یہ خزانہ قرآن کو پڑھنے ساتھ تدبر کئے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا.
دور حاضر میں کسی بات کی صداقت کو پرکھنے کیلئے بہترین کسوٹی تجربات و مشاہدات سمجھے جاتے ہیں، یہاں بھی تجربات و مشاہدات چیخ چیخ کے کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں نے جب سے قرآن سے ہدایت لینا چھوڑ دیا وہ درخت سے ٹوٹ کر بہتی دریا میں گرے ہوئے پتے کی طرح ہو گئے ہیں جس کا سفر صرف دریائی موجوں کے سہارے جاری رہتا ہے پتہ نہیں کب وہ کسی کوڑے کے ڈھیر تک پہونچ کر گندگی میں دب جائے ،یا سمندر کی تلاطم خیز موجیں اس کا مقدر بن جائے،
کچھ دنوں قبل گاڑی کی سرویسینگ کیلئے شو روم جانا ہوا اور گاڑی میں آنے خرابیوں کا تذکرہ کیا تو وہاں کے کارندے نے گاڑی کے ساتھ ملنے والا کتابچہ طلب کیا اس کو الٹ پلٹ کر بولا آپ دس روز تاخیر سے آئے ہیں، گذشتہ ماہ آپ نے پٹرول بھی تبدیل نہیں کیا اسلئے یہ ساری خرابیاں پیدا ہو گئے ہیں میں نے پوچھا کیسے پتہ چلا تو اس کا جواب تھا کہ اس کتابچہ میں گاڑی کو صحیح و سالم دیرپا رکھنے کیلئے ہر چھوٹی بڑی ہدایات ہیں اگر آپ اس میں دی گئی ہدایات کے مطابق اوقات مقررہ پر گاڑی کی سرویسینگ کراتے ہیں،اس کے پارٹس تبدیل کرتے رہینگے تو آپ کی گاڑی صحیح سالم اور ٹکاؤ رہے گی خرابیوں کے امکانات تقریبا معدوم ہو جائینگے لیکن ذرا تساہلی برتنے پر کوئ گائرنٹی نہیں کب یہ آپ کو دھوکہ دے جائے اور کتنی خرابیاں اس میں آجائیں ،وہ بول رہا تھا اور میرا ذہن کچھ اور سونچ رہا تھا، ذہن میں یہ سوال گونج رہا تھا کہ کیا ،قرآن پاک بھی خدا کے بنائے ہوئے انسانی مشین کیلئے ہدایت نامہ ہے جس میں جسم اور روح دونوں کو بہتر اور متوازن رکھنے کیلئے مخصوص ہدایات ہیں کہ اگر انسان صرف جسم پر توجہ دے اور روح کو بھول جائے تو اس کا نتیجہ خود اس کیلئے وبال جان بن جاتا ہے اور اس کے پر کوئی صرف روحانی اصلاح میں شب و روز لگا رہتا ہے تو جسم بےکار اور معطل ہوجاتا ہے، میں بک لیٹ سے قرآن کو تشبیہ نہیں دے رہا ہوں بس تقریب الی الذین کیلئے یہ چند باتیں ذہن میں آگئیں، ورنہ جس طرح انسان اشرف المخلوقات ہے اس کیلئے نازل کیا گیا ہدایت نامہ بھی ارفع اعلی ہے، جس کی ہمسری کی کا امکان ہی نہیں.
الغرض قرآن اور تمام آسمانی کتب صرف اور صرف ہماری بھلائی کیلئے خالق کون و مکان کا نازل کردہ ہدایت نامہ ہے اس کی روشنی میں زندگی گزارنے والا انسان دارین میں سرخرو اور ہر کامرانی سے سرفراز ہوگا،اس کے بر عکس رو گردانی کر نے والا بروز قیامت حرماں نصیبی کے آنسوں میں سر تا پا غرق ہوگا.
اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کو قرآن کی تلاوت اور اس پر عمل کی توفیق بخشے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: